اُس ستم گر کے سب اندازِ ستم رہنے دے (غزل کے تین اشعار کا پوسٹر)


3 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book UMR e GUREZAN, 

 حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "عمرِ گریزاں" کی ایک غزل کے تین اشعار کا پوسٹر

اُس ستم گر کے سب اندازِ ستم رہنے دے 
دشمنِ جاں کے سبھی جاہ وحشم رہنے دے

اے خدا! ڈر ہے مجھے طے ہی نہ ہوجائے کہیں
منزلِ عشق کو دو چار قدم رہنے دے

اُس سے کہہ دو کہ وہ اب یہ تو نہ چھینے مجھ سے 
میرے دامن میں مِرے درد و الَم رہنے دے

خاک عزت ہے یہاں اہلِ ادب کی حیدر

چھوڑ یہ زورِ بیاں، زعمِ قلم رہنے دے



couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book Umre Gurezan

UMR e GUREZAN is online at many links...here are the 2 links to reach the book.

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)