روشنی روشنی سی ہر سو ہے (چار شعروں کے دو پوسٹر)

 

4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چار اشعار دو پوسٹرز 

روشنی روشنی سی ہر سُو ہے 
یہ ترا دھیان ہے کہ خود توُ ہے 

جب تلک دیکھوں اک گلاب ہے وہ 
اور چھونے لگوں تو خوشبو ہے

ہاتھ آتی نہیں دھنک جیسے 
وہ بھی رنگوں کا ایک جادُو ہے

اُس نے پتھرا دیا مجھے حیدر
دیکھنے میں جو آئینہ رو ہے



4 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB

Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.

 اور

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)