رہا نہ کام علامت یا استعارے کا (غزل کے سات اشعار کے تین پوسٹر)


7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے سات شعروں کے تین پوسٹر

رہا نہ کام علامت یا استعارے کا
یہاں تو عشق ہے جیسے بجٹ خسارے کا

عجیب لہر سی دونوں کے من میں اُٹھی تھی
رہا نہ فرق سمندر کا اور کنارے کا

کبھی تھا ہجر میں بھی وصل کا مزہ لیکن
ہے وصل ہجر زدہ آج ہجر مارے کا

تمہارے جوش بھی سب ٹھنڈے پڑ گئے پیارے
ہمارا پیار بھی بس رہ گیا گزارے کا

دُکھ آیتوں سے بھری اس کی ہر کہانی ہے
عجیب رنگ ہے اس دل کے ہر سپارے کا

گھِرا ہواہوں اندھیرے بھنور کے چکر میں
یقیں کیا تھا کسی”روشنی کے دھارے“کا

خدا پہ چھوڑ دو سارا معاملہ حیدر
نتیجہ جو بھی نکل آئے استخارے کا




7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI

ZINDGI is online at these links


اور


 

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)