وزیر‘ فِیل اور شاہ پھر سے بدَل رہا ہے - وہ چال شاید اب اور ہی کوئی چَل رہا ہے (4 اشعار کے 2 پوسٹر)


4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters

 حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چار اشعارکے دو پوسٹر

وزیر‘ فِیل اور شاہ پھر سے بدَل رہا ہے

وہ چال شاید اب اور ہی کوئی چَل رہا ہے 

بچی ہوئی ہے بس اب تو خاک اور راکھ باقی

کہ اب نہ رسی نہ کوئی رسی کا بل رہا ہے

چلو پھر ابلیس کو بلا ؤ اسے بتاؤ

جو ابنِ آدم پھسل گیا تھا سنبھل رہا ہے 

کچھ اِس طرح ڈوبنے لگی ہے یہ دل کی دھڑکن

کہ جیسے دھیرے سے کوئی گھر سے نکل رہا ہے

کسی کے جَور وستم کی حیدر کرامتیں ہیں

بجھا ہوا ہے یہ دل مگر پھر بھی جل رہا ہے

٭٭

 



4 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB

Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.

 اور















Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

یہ واقعہ ہوا اپنے وقوع سے پہلے - کہ اختتامِ سفر تھا ، شروع سے پہلے(سات اشعار کے تین پوسٹر)

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)