روگ سمجھا ہے کوئی کب کسی دیوانے کے آدھے ہم تیرے ہیں، آدھے کسی بے گانے (4 اشعار کے 2 پوسٹر)


4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters

 حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چار اشعارکے دو پوسٹر

روگ سمجھا ہے کوئی کب کسی دیوانے کے 

آدھے ہم تیرے ہیں، آدھے کسی بے گانے کے

دل نے کچھ اپنے ہی معیار بنائے رکھے

زخم دینے کے قرینے ہوں کہ سہہ جانے کے

ہم کہاں کے کوئی سقراط تھے پر ہم پر بھی

آئے الزام نئی نسل کو بہکانے کے

وہ کہ نازاں رہے جن باتوں پہ، اب دیکھ بھی لیں

آگئے وقت انھیں باتوں پہ پچھتانے کے 

ہم بھی اُٹھے ہیں نیا حوصلہ لے کر حیدر

نئے انداز ہیں اُس کے بھی ستم ڈھانے کے



4 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB

Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.

 اور



 

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

یہ واقعہ ہوا اپنے وقوع سے پہلے - کہ اختتامِ سفر تھا ، شروع سے پہلے(سات اشعار کے تین پوسٹر)

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)