رات کی رانی مہکی کہ تم آئے تھے - دونوں عالم مہکتے رہے رات بھر (ایک غزل کے 4 اشعار کے دو پوسٹر)

4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters

 حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چار اشعارکے دو پوسٹر

مکمل غزل کا متن

دو پرندے چہکتے رہے رات بھر 

اور بھرتے ‘ چھلکتے‘ رہے رات بھر

رات کی رانی مہکی کہ تم آئے تھے

دونوں عالَم مہکتے رہے رات بھر

سیدھے رستے کو پانے کی دھن میں مگن

کس طرح ہم بہکتے رہے رات بھر

سرد جسموں میں بھی جان سی آگئی

ایسے جذبے دہکتے رہے رات بھر

رات بھر وصل کا چاند چمکا کیا

دل سمندر ہُمکتے رہے رات بھر

زندگی! دیکھ بجھتے ہوئے لوگ ہم

بزمِ جاں میں چمکتے رہے رات بھر

حاصلِ عمر ٹھہرے ہیں لمحے وہی

جن میں حیدر بھٹکتے رہے رات بھر



 


4 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB

Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.

 اور

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

یہ واقعہ ہوا اپنے وقوع سے پہلے - کہ اختتامِ سفر تھا ، شروع سے پہلے(سات اشعار کے تین پوسٹر)

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)