مسافتوں کی لگن تو فقط بہانہ تھا - مسافروں کو بہرحال آگے جانا تھا (6 اشعار کے 2 پوسٹرز)
6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters
حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چھ اشعارکے دو پوسٹر
مسافتوں کی لگن تو فقط بہانہ تھا
مسافروں کو بہرحال آگے جانا تھا
رہا نہ دھیان کسی کو دیا بجھانا تھا
جب اُس کو میں نے، مجھے اُس نے آزمانا تھا
یقین کی یہی دولت ہمارے ہاتھ آئی
کہ ہم نے عشق میں پیہم فریب کھانا تھا
خود اپنے آپ سے احوال کہہ کے روتے رہے
کہ شہرِ دل کو جلانا تھا اور بجھاناتھا
جو میری روح میں بس زہر گھولتا ہی رہے
مِرے نصیب میں چینی کا کارخانہ تھا
جب آنکھیں مند گئیں حیدر گھنے اندھیرے میں
تو روشنی کا کوئی خواب ہی جگانا تھا
6 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB
Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.
اور


Comments
Post a Comment