عشق میں سب کچھ اک جیسا ہے،کیا پانا،کیا کھونا - لذت میں ملتا جلتا ہے ہنسنا ہو یا رونا (6 اشعار کے دو پوسٹر)



  6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 6 شعروں کے دو پوسٹر 

عشق میں سب کچھ اک جیسا ہے،کیا پانا،کیا کھونا

لذت میں ملتا جلتا ہے ہنسنا ہو یا رونا

ساری ریاضت خاک ہوئی اور زعمِ کرامت ٹوٹا

اک درویش پہ چل گیا ایسا حُسن کا جادو ٹونا

جن و ملک سب سے اُکتا کر رب نے بنایا،آخر

سانسوں کی چابی سے چلنے والا ایک کھلونا

سُن یارا! مت اُلجھ تُو اُس سے جس کی ایک نظر ہی

سونے کو مٹی کردے، مٹی کو کردے سونا

زہریلی نفرت کا موسم جتنا زہریلا ہو

اپنی آنکھوں میں سچی چاہت کے خواب ہی بونا

ہم ہی کتنی دیر سے ساری بات کیے جاتے ہیں

اتنی دیر سے چُپ بیٹھے ہو،تم بھی کچھ تو کہو نا!

ڈر ہے رازوں کے افشا کا موجب نہ بن جائے

حیدر بھید بھرے دل کا اب چھید بھرا دل ہونا





 6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI

ZINDGI is online at these links
اور


Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

یہ واقعہ ہوا اپنے وقوع سے پہلے - کہ اختتامِ سفر تھا ، شروع سے پہلے(سات اشعار کے تین پوسٹر)

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)