اسے پھر اگلے سفر کے لیے اُبھرنا ہے - وہ جس کو شام کی دہلیز پر اُترنا ہے (6 اشعار کےدو پوسٹر)
6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters
حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چھ اشعارکے 2 پوسٹر
اُسے پھر اگلے سفر کے لیے اُبھرنا ہے
وہ جس کو شام کی دہلیز پر اُترنا ہے
نجانے ذات کے گرداب سے وہ کب نکلے
کہ فاصلوں کاسمندر بھی پار کرنا ہے
میں برگِ خشک ہوں تُو کوئی سر پھرا جھونکا
اب آبھی جاکہ مجھے ٹوٹ کر بکھرنا ہے
ابھی تو اُس نے کئی عہد مجھ سے کرنے ہیں
ابھی تو اُس نے ہر اک عہد سے مکرنا ہے
تو کیوں نہ مل لیں ہم اک دوسرے کو جی بھر کے
یہ جب یقیں ہے کہ اک دن ہمیں بچھڑنا ہے
یہ چند گھڑیاں ہی جنت نظیر ہو جائیں
پھر اپنے اپنے جہنم کو ہم نے بھرنا ہے
میں جس صدا پہ چلا ہوں نئے سفر کے لئے
اُسی کے حکم پہ حیدر مجھے ٹھہرنا ہے
6 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB
Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.
اور


Comments
Post a Comment