کتنے تفکرات لیے آرہی ہے عید - مہنگائی جیسے لُوٹ گئی قوتِ (7اشعار کے 3 پوسٹر)


7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI

 حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 7 شعروں   کے 3 پوسٹر 

کتنے تفکرات لیے آرہی ہے عید

مہنگائی جیسے لُوٹ گئی قوتِ خرید

یا خود کشی کی خبریں ہیں یا خود کشوں کا کھیل

صاحب! کہاں کی رونقیں اور کیسا شوقِ دید

اک دوسرے کا قتل ہے شوقَ جہاد میں

اِس کے بھی سب شہید ہیں،اُس کے بھی سب شہید

افسوس ہم میں اک بھی حسینی نہیں رہا

اور دندنا رہا ہے یہاں لشکرِ یزید

خوش فہمیوں سے اب بھی نہ نکلیں تو کیا کہیں

جن کو بشارتوں کا نتیجہ ملا وعید

اپنے کیے دھرے کی سزا میں ہیں مبتلا

اب بھی اگر نہ سمجھے تو بھگتیں گے پھر مزید

وہ پاک باز ہم پہ مسلط کیے گئے

حیدر دیارِ پاک کی مٹی ہوئی پلید


 



7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI

ZINDGI is online at these links
اور

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

یہ واقعہ ہوا اپنے وقوع سے پہلے - کہ اختتامِ سفر تھا ، شروع سے پہلے(سات اشعار کے تین پوسٹر)

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)