کب ہے کہ حقیقت سے دل آگاہ نہیں ہے - گم، راہ بھی ہوتے ہوئے گمراہ نہیں ہے ( 9 اشعار کے 3 پوسٹر)
9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 3 posters
حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے 9 اشعارکے 3 پوسٹر
کب ہے کہ حقیقت سے دل آگاہ نہیں ہے
گم، راہ بھی ہوتے ہوئے گمراہ نہیں ہے
افلاک کے در وا ہوئے کس شخص کی خاطر
مظلوم ہے ہونٹوں پہ مگر آہ نہیں ہے
جب اذنِ مسافت نہ تھا ہر سمت تھے رستے
اب اذن ملا ہے تو کہیں راہ نہیں ہے
پھر قصرِ زلیخا میں رَسائی بھی ہو کیسے
کنعانِ تمنا میں کوئی چاہ نہیں ہے
آنکھوں میں ہماری کوئی سورج نہیں باقی
ماتھے پہ تمہارے بھی کوئی ماہ نہیں ہے
شرطوں پہ محبت کی کوئی بات نہ کرنا
یہ تیرا طلب گار شہنشاہ نہیں ہے
بس پیار کو بھی پیار کی حد تک ہی نبھائیں
دل، دل ہے کسی پِیر کی درگاہ نہیں ہے
اس چشمِ فسوں ساز کے جادو کو نہ سمجھیں
اب اپنی نظر اتنی بھی کوتاہ نہیں ہے
رہنے دو مِری جان یہ توقیر و تکلف
حیدر ترا اب اتنا بھی ذی جاہ نہیں ہے
couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB



Comments
Post a Comment