طلوعِ صبح سے پہلے شگافِ نیل ہونا ہے - یہ منظر سامنے کا جلد ہی تبدیل ہونا ہے ( 7 اشعار کے 3 پوسٹر)
7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 3 posters
حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے 7 اشعارکے 3 پوسٹر
طلوعِ صبح سے پہلے شگافِ نیل ہونا ہے
یہ منظر سامنے کا جلد ہی تبدیل ہونا ہے
گزرتی سرد اور لمبی اندھیری شب کے سینے میں
ابھی کچھ اور شمعوں کا لہو تحلیل ہونا ہے
پھر اہلِ جور کے حق میں فقیہِ شہر کے صدقے
حدیثِ جبر کی کوئی نئی تاویل ہونا ہے
ہماری ایڑیوں سے اب کوئی چشمہ نہ ابلے گا
نہ قسمت میں ہماری کوئی بیتِ اِیل ہونا ہے
تمہارے دل کی بنجر سر زمیں سیراب کرنے کو
ہماری خشک آنکھوں ہی کو آخر جھیل ہونا ہے
کبھی دریا کی لہروں پر، کبھی صحرا کے سینے میں
محبت کا نیا قصہ سدا تشکیل ہونا ہے
ہمارا خواب تو بے شک ادھورا رہ گیا حیدر
مگر تعبیر کی تو لازماً تکمیل ہوناہے
7 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB
Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.
اور



Comments
Post a Comment